افسانہ بابا لوگ کا خلاصہ

یہ افسانہ غیاث احمد گّدی کے افسانوی مجموعہ بابا لوگ کا پہلا افسانہ ہے۔ اس مجموعہ میں نو افسانے شامل ہیں۔

یہ افسانہ انسانی ہمدردی اور ایثار کی عمدہ مثال ہے۔ بابا اس افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ پوری کہانی کا خاکہ اس کے ارد گرد بنا گیا ہے۔ اس کہانی کی شروعات میں ہمیں ایک بوڑھے آدمی سے سابقہ پڑتا ہے جو نہایت ہی گندا اور بدوضع ہے، لیکن اس کے اندر قربانی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ محلے کے بچوں کی دلبستگی کا سامان فراہم کرتا ہے اور روز انہیں کہانیاں سناتا ہے۔

افسانہ کی شروعات اس جملے سے ہوتی ہے:
بابا لوگ سب کمرے میں آ جاؤ۔۔۔ ہم تم کو کہانی سنائے گا!۔

بابا روز بچوں کو راجا اور رانی (کنگ اور کوئین) کی فرسودہ کہانی سناتا ہے۔ بچے تنگ آکر نئی کہانی کی فرمائش کرتے ہیں، لیکن بابا جواب دیتا ہے کہ وہ روز نئی کہانی کہاں سے لائے گا۔ بابا اپنے صاحب کی لڑکی مارگریٹ کو جیسے اس نے بچپن سے پالا تھا، لیکن وہ اب اسے بڈھا اور کھوسٹ سمجھتی ہے۔ اور جب بھی اس سے سامنا ہوتا ہے تو اسے گالیاں دیتی ہے اور بابا کی میل کچیل کی وجہ سے اس سے کراہت کا اظہار کرتی ہے۔

بابا، مارگریٹ کو بچپن سے پالنے کی وجہ سے اس پر پدرانہ حق جتاتا ہے اور اسے اپنے عاشق جارج سے ملنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ بابا جارج کو اچھا نہیں سمجھتا اور اس کی اصلیت سے واقف ہوتا ہے کہ کس طرح جارج نے ہک صاحب کی لڑکی کو خراب کیا تھا۔ جارج کی بری خصلت کے بارے میں  بار بار مارگریٹ اور اس کے باپ صاحب کو آگاہ کرتا ہے۔لیکن وہ اس کی بات پر دھیان نہیں دیتے بلکہ اسے ڈانٹ پھٹکار دیتے ہیں۔

مارگریٹ بابا کی روک ٹوک سے تنگ آکر ایک دن اپنے والد سے اس کی شکایت کرتی ہے اور اسے گھر سے نکالنے کو کہتی ہے۔ لیکن صاحب اپنی لڑکی کو پیار سے سمجھاتے ہیں اور اسے اس بات سے آگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح اس کی ماں کی موت کے بعد اور سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آکر بابا مارگریٹ کو لے کر بھاگ گیا تھا تاکہ اسے محفوظ رکھ سکے۔ اس کے علاوہ اس کی پرورش میں بابا کا اہم کردار رہا ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود مارگریٹ جارج کے عشق میں اندھی ہو کر بابا کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کرتی ہے اور اس کے روکنے ٹوکنے پر اسے گالیوں سے نوازتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن اسے نوکر ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ اس کے بعد بابا اسے روکنا چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن بابا کی کہی بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ جارج اس کی جوانی برباد کرکے چلا جاتا ہے اور مارگریٹ انیس سال کی عمر میں ایک مردہ ناجائز بچے کو جنم دیتی ہے۔

صاحب، بابا سے اپنی غلطی کی معافی مانگتے ہیں اور مارگریٹ کی عزت بچانے کے لیے اس کی مدد طلب کرتے ہیں۔ بابا ساری کوتاہیاں معاف کر دیتا ہے اور اپنی بے بی (مارگریٹ) کی مدد کرتا ہے۔ وہ شہر میں ہو رہے دنگوں کی پرواہ کیے بغیر بچے کی لاش کو شہر سے باہر دفنا آتا ہے۔ اس دوران اس کے پاؤں میں پولیس کی گولی لگ جاتی ہے۔

آخر میں صاحب مارگریٹ کی شادی کلکتہ کے رابنسن صاحب سے کر دیتے ہیں۔ رخصتی کے دوران بابا مارگریٹ کو ہار (نیکلس) تحفے میں دیتا ہے، لیکن وہ پہلے لینے سے انکار کرتی ہے، پھر کچھ سوچ کر قبول کر لیتی ہے۔ اس کی رخصتی کے بعد بابا کو ساری دنیا ویران نظر آتی ہے اور افسانہ ایک نہایت جذباتی موڑ پر ختم ہوتا ہے۔

“اس نے چلتے چلتے آنکھیں میچ لیں۔ آنسوؤں کے دو قطرے رخسار پر آ پڑے۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے انگلیوں سے سینے پر صلیب بنائی۔ کدھر میں جائے گا، یسوع مسیح، بولو۔۔۔ بولو؟”

افسانہ بابا لوگ کے کردار:
ڈولی، مارگریٹ (بابا اس کو بے بی کہتا ہے)، جارج (مارگریٹ کا عاشق)، صاحب، ہک صاحب، بابا (بڈھا انکل)، رابرٹ صاحب، وٹسن صاحب، رابنسن صاحب

افسانہ بابا لوگ کے اہم واقعات:
سوتیلی ماں کی زیادتیوں سے تنگ آکر بابا چھوٹی مارگریٹ کو لے کر بھاگ جاتا ہے۔
مارگریٹ نے پانچ کا نوٹ بابا کو مدد کرنے کی عوض دیا۔
بابا کے کتے کا نام ٹائیگر تھا۔
مارگریٹ کی شادی رابنسن صاحب سے ہوئی تھی۔
بابا نے اپنے مالک (صاحب) سے پچاس روپے مانگے، جس سے اس نے ہار (نیکلس) خرید کر مارگریٹ کو دیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *